کیا حالت احرام میں شوگر ٹیسٹ کروانا جائز ہے

کیا حالت احرام میں شوگر ٹیسٹ کروانا جائز ہے؟

Author: Sir Ghulam Mustafa | Date: 23 May 2026

احرام کی حالت میں شوگر چیک کرنے کے لیے سوئی لگا کر خون نکالنے کا شرعی حکم:

اس مسئلہ میں مندرجہ ذیل حدیث پاک سے استدلال کیا جاۓ گا۔ کیونکہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں پچھنے  لگواۓ تھے (حجامہ)۔

حدیث مبارکه:

أَبُو حَنِيفَةَ: عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ۔

ترجمہ:

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ کا بیان ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں پچھنے لگوائے تھے۔

تمام آئمہ فقہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جس طرح حالت روزہ میں پچھنے لگوانے سے روزہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا اسی طرح حالت احرام میں پچھنے لگوانے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ البتہ سر میں تکلیف ہونے کے سبب بال ترشوائے تو فدیہ دینا پڑے گا۔

کیا حالت احرام میں شوگر ٹیسٹ کروانا جائز ہے
حالت احرام میں شوگر ٹیسٹ کروانا جائز ہے

اس سلسلہ میں ارشاد ربانی ہے:

فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ، (سورة البقرہ)

ترجمہ:

"پس تم میں سے جس شخص کو مرض لاحق ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو تو اس کے عوض صدقہ ہے"۔

اگرسر میں تکلیف کے باعث احرام کی حالت میں بال ترشوا دیے تو اس صورت میں فدیہ ادا کرنا پڑے گا اگر بال نہیں ترشوائے تو اس پر کوئی فدیہ نہیں ہے۔

(اردو شرح مسند امام اعظم، علامہ یاسین قصوری، ص: 512/513)

حالت احرام میں شوگر چیک کرنے کا جواز:

مذکوہ بالا حدیث پاک کی روشنی میں یہ مسئلہ بالکل واضح ہے کہ حالت احرام میں شوگر بھی چیک کر سکتے ہیں۔ اور بیمار ہو جانے کی صورت میں خون کا ٹیسٹ کروانے کے لیے جسم سے خون کا سیمپل بھی نکال سکتے ہیں۔ (فیصل احمد، شہباز علی، ۰۳-۰۲-۲۰۲۲ حالت احرام میں خون ٹیسٹ کرانے کا حکم، دارالافتاء، www.darulifta.info)

نوٹ: اس طرح خون ٹیسٹ سے کسی قسم کا فدیہ یا دم (قربانی) واجب نہیں ہوتی۔

Post a Comment

0 Comments