سجدۂ سہو کا طریقہ اور ضروری مسائل

سجدۂ سہو کا طریقہ اور ضروری مسائل

Author: Sir Ghulam Mustafa | Date: 20 Oct 2026

سجدۂ سہو کا معنی اور مفہوم:

سہو کے معانی "بھول جانا" کے ہیں، اور جب نماز پڑھتے ہوئے نماز کے ارکان وغیرہ میں سے کوئی چیز بھول جائے تو اسے "سہو" کہا جاتا ہے، اور اس "سہو" کی وجہ سے نماز میں پیدا ہونے والی کمی اور نقص کو دور کرنے کے لیے آخری تشہد میں ایک اضافی سجدہ کیا جاتا ہے ، اس سجدے کو "سجدۂ سہو" کہا جاتا ہے۔

سجدۂ سہو کا طریقہ اور ضروری مسائل
سجدۂ سہو کا طریقہ اور ضروری مسائل

نبی صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم کا نماز میں "سہو":

عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ علْقَمَةَ، عَنْ عبد اللہ بن مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:

أَنَّ رَسُولَ اللَّهَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةً إِمَّا الظُّهْرَ وَإِمَّا الْعصَرَ، گزار او نَقَصَ، فَلَمَّا فَرَغَ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ أَحَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ أَمْ نَسِيْتَ؟

 قَالَ: أُنْسِى كَمَا تُنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِيْتُ فَذَكِّرُونِي، ثُمَّ حَوَّلَ وَجْهَهُ إِلَى الْقِبْلَةِ، فَسَجَد سجدتی السھوِ وتشھد فِيهَا، ثُمَّ سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِه۔ 

ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن مسعود ضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ظہر یا نماز عصر پڑھائی جس میں رکعات کا اضافی ہوا یا کمی واقع ہوئی۔ سلام پھیر نے پر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو دریافت کیا گیا:

یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا نماز میں کوئی تبدیلی ہوئی ہے یا آپ سے سہو ہوا ہے؟

آپ علیہ السلام نے فرمایا: تمہاری طرح مجھ سے بھی سہو ہوتا ہے اور جب مجھ سے سہو واقع ہو تو تم مجھے یاد کرا دیا کرو۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ انور قبلہ کی طرف کیا اور دو سجدے کیے، پھر تشہد پڑھا اور اپنے دائیں اور بائیں سلام پھیرا۔ (مسندِ امام اعظم، اردو شرح، علامہ یاسین قصوری، کتاب الصلاۃ، ص : 376)

سجدۂ سھو کے وجوب کی صورت:

سجدہ سھو کے واجب ہونے کی تین شرائط ہیں:

 نمبر ایک: ایسا عمل جو نماز میں کرنا واجب ہے، اس کا رہ جانا،

نمبر دو: تکرارِ واجب (نماز میں جو عمل ایک بار ہی کرنا واجب تھا، اسے بھول کر دو مرتبہ کر لینا)

نمبر تین: تاخیرِ واجب، (نماز میں ایک واجب عمل کے فورا بعد دوسرا عمل کیا جائے گا تاخیر نہیں کی جائے گی) 

سجدۂ سھو کے ضروری مسائل:

سجدہ سہو کے حوالہ سے چند اہم اور ضروری فقہی مسائل ذیل میں پیش کیے جاتے ہیں:

1- کسی شخص نے قصدا واجب ترک کیا تو اس کی تلافی سجدہ سہو سے نہیں ہوگی بلکہ نماز کا اعادہ ضروری ہے۔ اگر کسی سے سہو واجب ترک ہو اور اس کا سجدہ سہو نہ کیا تب بھی نماز کا اعادہ ضروری ہے۔

2- کسی نے ایسا واجب ترک کر دیا جس کا تعلق واجبات نماز سے نہ ہو بلکہ اس کا تعلق وجوب امر خارج سے ہو، تو اس کی تلافی سجدہ سہو سے نہیں ہوگی، مثال کے طور پر خلاف ترتیب قرآن کی قرآت کرنا، ترک واجب ہے، تو اس سے سجدہ سہو واجب نہیں ہو گا۔

3- نماز کا فرض ترک ہو جانے سے نماز فاسد ہو جائے گی، اس کی تلافی سجدہ سہو سے نہیں ہوگی بلکہ نماز کا از سرے نو اعادہ ضروری ہے۔ نماز کی سنتیں اور مستحبات میں سے کوئی چھوٹ جائے تو سجدہ سہو واجب نہیں ہوگا بلکہ بغیر سجدہ سہو کے نماز درست ہو جائے گی۔

4- نماز میں کئی واجبات چھوٹ جائیں تو ان کے لیے متعدد سجدہ سہو ضروری نہیں ہیں بلکہ ان سب کی تلافی ایک بار سجدہ سہو کرنے سے ہو جائے گی۔

5- امام سے سہو ہوا تو امام اور مقتدی دونوں پر سجدہ سہو واجب ہوگا اور اگر مقتدی سے سہو ہوا تو سجدہ سہو نہ امام پر ہوگا اور نہ مقتدی پر۔  (مسندِ امام اعظم، اردو شرح، علامہ یاسین قصوری، کتاب الصلاۃ، ص : 376 – 378)

Post a Comment

0 Comments