حالت احرام میں نکاح کرنا

حالت احرام میں نکاح کرنے کا حکم:

Author: Sir Ghulam Mustafa | Date: 07 Jun 2026

حالت احرام میں نکاح کرنے کے بارے میں حدیث پاک کی روشنی میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمة اللہ علیہ کے نزدیک جائز ہے۔

یہاں اس مسئلہ پر مختصر اور جامع انداز میں لکھا جارہا ہے۔

حالت احرام میں نکاح کرنا
حالت احرام میں نکاح کا حکم


حالت احرام میں نکاح حدیث پاک کی روشنی میں:

حدیث مبارکہ:

"أَبُو حَنِيفَةَ: عَنْ سِمَاكٍ، عَنِ ابْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: تَزَوَّج رسوَلُ اللَّه صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ بنَتَ الْحَارِثِ، وَهُوَ مُحْرِم"۔

ترجمہ:

"حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں حضرت میمونہ بنت حارث رضی الله عنہا سے نکاح کیا"۔

حالتِ احرام میں نکاح، اور امام اعظم ابوحنیفہ کا موقف:

حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمة اللہ علیہ کا نظریہ یہ ہے کہ مرد اور عورت دونوں حالت احرام میں نکاح کریں تو درست ہے۔

امام صاحب کے دلائل:

دلیل نمبر-1

ارشاد ربانی ہے:

فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ (سورۃ النساء:3)

ترجمہ:

"تم نکاح کرو عورتوں سے جو بھی تمہیں اچھی لگتی ہوں"۔

اس آیت سے اس طرف اشارہ ہے کہ یہ حکم خداوندی مطلق اور عام ہے ، اس سے حالت احرام کا استثنی نہیں کیا جا سکتا۔

 دلیل نمبر-2

زیرِ مطالعہ حدیث کہ جس میں صراحت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنھا سے حالت احرام میں نکاح کیا۔ حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعض ازواج سے حالت احرام میں نکاح کیا تھا۔

دلیل نمبر-3

عقلی دلیل سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ نکاح بھی دیگر عقود کی طرح ایک عقد ہے، جب ان کے جواز میں کوئی اختلاف نہیں ہے اسی طرح نکاح کے جواز میں بھی اختلاف نہیں ہونا چاہیے۔

نوٹ:

جس روایت کی بنیاد پر دیگر آئمہ فقہ نے یہ کہا ہے کہ:

حالت احرام میں نکاح نہیں کیا جاسکتا، اور جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت میمونہ سے نکاح کیا تو آپ حالت احرام میں نہیں تھے۔  

اس روایت کے جواب میں امام اغظم ابو حنیفہ رحمة اللہ علیہ نے کہا کہ یہ جو روایت پیش کی گئی ہے کہ: "جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا تو آپ احرام میں نہیں تھے" اس روایت کا مطلب یہ ہے کہ:

یہاں نکاح کا لغوی معنی (جماع، ہمبستری) مراد ہے، گویا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح حالت احرام میں کیا اور جماع / ہمبستری غیر احرام میں کی۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ نکاح تو حالت احرام میں کیا جا سکتا ہے لیکن ہمبستری نہیں کی جاسکتی۔ جیسا کہ روایت میں ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس اور ان کی زوجہ کے کہنے پر مقام سرف پر حالت احرام میں حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا سے نکاح کیا، اور عمرہ سے واپس آتے ہوۓ اسی مقام پر آپ علیہ السلام نے اپنی زوجہ حضرت میمونہ سے تخلیہ (خلوت، مراد حق زوجیت) ادا کیے اور دعوت ولیمہ کی، مقام سرف مدینہ منورہ سے چھ کلو میٹر دوری پر ہے۔

ماخذ از: (اردو شرح مسند امام اعظم، علامہ یاسین قصوری، پروگریسو بکس، مئی 2014، کتاب الحج، ص:۵۱۲)

Post a Comment

0 Comments