قسم اٹھانے کا طریقہ جھوٹی قسم کی وعید اور قسم کا کفارہ

 قسم اٹھانے کا طریقہ جھوٹی قسم کی وعید اور قسم کا کفارہ

Author: Sir Ghulam Mustafa | Date: 31 March 2026

جھوٹی قسم اٹھانے کے بارے مختلف روایات:

نمبر: 1

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے کاموں سے بغاوت سے بڑا کوئی عمل نہیں ہے جو جلدی عذاب کا مستحق بنادے ۔ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کے امور میں سے صلہ رحمی سے بڑا کوئی عمل نہیں جو فوراً اجر و ثواب کا حقدار بنادے۔ جھوٹی قسم شہروں کو تباہ کر دیتی ہے۔

نمبر: 2

ایک روایت میں ہے کہ صلہ رحمی سے بڑا عمل نہیں جو فوراً ثواب کا حقدار بنا دے، نہ بغاوت و قطع رحمی سے بڑی کوئی چیز ہے جو جلدی عذاب کا مستحق بنادے اور جھوٹی قسم شہروں کو ویران کر دیتی ہے۔

نمبر: 3

ایک روایت میں یوں موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کے افعال میں سے صلہ رحمی سے بڑا کوئی عمل نہیں ہے جو فورا اجر وثواب کا حقدار بنا دے، اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے کاموں میں سے بغاوت سے بڑا نافرمانی سے کوئی فعل نہیں ہے جو جلدی سے عذاب کا حقدار بنادے اور جھوٹی قسم شہروں کی رونق ختم کر دیتی ہے۔

نمبر: 4

ایک روایت میں اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے کاموں میں بغاوت سے بڑھ کر کوئی نہیں ہے جو فوراً مستحق عذاب بنا دے۔

قسم اٹھانے کا طریقہ جھوٹی قسم کی وعید اور قسم کا کفارہ
قسم کا کفارہ 


قسم کی اقسام ، ان کا شرعی حکم اور یمین غموس کی مذمت :

قسم کی تین اقسام ہیں:

ان کی تعریفات اور شرعی حکم ذیل میں پیش کیا جاتا ہے:

یمین منعقدہ:

مستقبل میں پیش آنے والے کسی معاملہ میں قسم کھانا۔ جس کے توڑنے سے انسان گناہگار ہوتا ہے اور اس کا کفارہ واجب ہے۔

یمین غموس:

ماضی کے کسی واقعہ کے حوالہ سے عمدا جھوٹی قسم کھانا ، ایسی قسم کھانے والا سزا کا حقدار، گناہگار بھی لیکن اس کا کفارہ نہیں ہے۔ البتہ توبہ واستفغار کرنا ضروری ہے۔

یمین لغو:

کوئی شخص کسی واقعہ کو اپنے زعم کے مطابق درست تصور کر کے قسم کھائے جبکہ حقیقت میں ایسا نہ ہو، ایسی قسم کا کفارہ واجب نہیں کیونکہ یہ معاف ہے۔

مزکورہ بالا حدیث سے مراد یمین غموس ہے:

زیر بحث حدیث میں یمین غموس کی مذمت کی گئی ہے کہ اس کے کھانے کی نحوست سے تمام شہر پر اثرات مرتب ہوتے ہیں اور شہر کی رونق تباہ ہو جاتی ہے۔ لفظ غموس فعل "غَمَسَ ، یَغ٘مِسُ" کا مصدر ہے جس کا لغوی معنی ہے غوطہ لگانا، ڈبونا، چونکہ جھوٹی قسم کھانے والا عذاب الہی کا حقدار قرار پاتا ہے اور آخرت میں بھی اسے عذاب جہنم میں غوطہ دیا جائے گا ، اس لیے اس قَسم کو یمین غموس کہا جاتا ہے۔

یمین (قسم) کے حوالہ سے چند فقہی مسائل :

یمین کے حوالہ سے چند ایک فقہی مسائل ذیل میں پیش کیے جاتے ہیں:

مسئلہ نمبر: 1

قسم کھانا جائز ہے لیکن جہاں تک ہو سکے اس سے احتراز کرے۔ بات بات پر قسم کھا کر اسے تکیہ کلام نہیں بنانا چاہیے کیونکہ ایسا عمل بہت معیوب ہے۔ اسی طرح غیر اللہ کی قسم کھانا مکروہ ہے اور اس کے توڑنے سے کفارہ لازم نہیں آتا۔

مسئلہ نمبر: 2

یمین غموس کھانے والا سخت گناہگار ہے، اس کا کفارہ نہیں ہے۔ البتہ اس میں توبہ واستغفار واجب ہے۔

مسئلہ نمبر:3

قسم کی چند شرائط یہ ہیں : مسلمان ہونا عاقل ہونا بالغ ہونا جس چیز کے بارے میں قسم کھائی جارہی ہو وہ عقلاً ممکن بھی ہو قسم اور جس چیز کے بارے میں قسم کھائی جارہی ہے، اس کے درمیان فاصلہ نہ ہو۔

مسئلہ نمبر: 4

جب کوئی شخص کسی چیز کو اپنے اوپر حرام قرار دے مثلاً یوں کہا: فلاں چیز مجھ پر حرام ہے تو اس کے کہنے سے وہ چیز حرام نہیں ہوگی کیونکہ جس چیز کو اللہ تعالی نے حلال کیا ہو اسے دوسرا کون حرام قرار دے سکتا ہے لیکن اس کے استعمال سے کفارہ لازم آئے گا۔ ایک شخص دوسرے سے یوں کہے کہ تجھ سے بات کرنا حرام ہے تو یہ یمین ہے۔ اگر وہ بات کرے گا تو کفارہ واجب ہے۔

مسئلہ نمبر: 5

غیر اللہ کی قسم نہیں ہے مثلاً کوئی کہے کہ تمہاری قسم، اپنی قسم، تمہاری جان کی قسم ، اپنی جان کی قسم ، تمہارے سر کی قسم، اپنے سر کی قسم، آنکھوں کی قسم، جوانی کی قسم ، ماں باپ کی قسم ، اولاد کی قسم، مذہب کی قسم، دین کی قسم علم کی قسم، کعبہ کی قسم، عرش الہی کی قسم اور رسول اللہ ﷺ کی قسم۔

قسم کا کفارہ:

ارشاد باری تعالی:

لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰـكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَیْمَانَۚ-فَكَفَّارَتُهٗۤ اِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَهْلِیْكُمْ اَوْ كِسْوَتُهُمْ اَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍؕ-فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍؕ-ذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَیْمَانِكُمْ اِذَا حَلَفْتُمْؕ-وَ احْفَظُوْۤا اَیْمَانَكُمْؕ-كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ۔ (سورة المآئدة:89)

ترجمہ:

"اللہ تعالٰی تمہاری بے مقصد قسموں پر مواخذہ نہیں فرمائے گا، لیکن تمہاری پکّی قسموں پر مواخذہ فرمائے گا، سو ایسی قسموں کا کفارہ دس مسکینوں کو ایسا درمیانی کھانا دینا ہے، جیسا تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان مسکینوں کو کپڑے پہنانا ہے، یا ایک غلام آزاد کرنا ہے اور جس شخص کو ان میں سے کسی چیز پر قدرت نہ ہو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم کھاؤ (اور قسم توڑ دو) اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو، اور اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے تا کہ تم شکر گزار ہو جاؤ"۔

مختصر تفسیر:

 فقہاء اکرام اس آیت کے تحت فرماتے ہیں کہ کفارۂ طعام میں یا تو دس مساکین کو صبح و شام کا کھانا یا ایک ہی مسکین کو دس دن صبح و شام کھانا دیا جائے، 
یا دس مساکین کو بیک وقت، دو وقت کھانے کے پیسے دے دیے جائیں، یا پھر ایک ہی مسکین کو دس دنوں میں الگ الگ دو وقت کے کھانے کے پیسے دے دیے جائیں

ایک مسکین کو اکٹھے دس دنوں کی اکٹھی رقم نہیں دی جاسکتی۔ یہ جائز نہیں۔ اگر ایک کو ہی دس مساکین کے صبح و شام کھانے کی رقم دینا مقصود ہو تو ڈیلی بیس پر دس دن میں دیے جائیں۔

نوٹ: ایک مسکین کے ایک وقت کے کھانے کی رقم: 300 سو پاکستانی روپے بنتے ہیں۔

یہ رقم اندازے سے بتائی گئی ہے جو کہ : 31-03-2026 کے حساب سے ہے۔

گندم کے حساب سے: 2.125 کلو گرام گندم بنتی ہے۔

والله اعلم

شرح صحیح مسلم، علامہ سعیدی علیه الرحمة، کتاب ایمان، ج: 4، صفحہ: 559-560

 

Post a Comment

0 Comments