آداب مباشرت اور اسلامی تعلیمات:
اسلام انسان کے سامنے مکمل ضابطہ حیات پیش کرتا ہے تا کہ اس کا کوئی عمل تعلیمات اسلام کے خلاف نہ ہو۔ آداب مباشرت کے حوالہ سے چند ایک آداب یہاں پیش کیے جاتے ہیں:
| آداب مباشرت اور اسلامی تعلیمات |
1- وضو کا اہتمام کرنا:
زوجین وضو کا اہتمام کریں، جب
وہ ظاہری طہارت کا اہتمام کریں گے تو اللہ تعالی انہیں طہارت باطنی کی دولت سے بھی
سرفراز فرمادے گا۔ ان کی طبیعت میں تازگی و شادابی کا تصور ابھرے گا۔
2- دو رکعت نفل صلاۃ الشکر، اور باہم محبت و مودت کی دعا کرنا:
باوضو اور دل و دماغ کو پاک
وصاف کر کے زوجین نوافل شکرانہ ادا کریں اور باہم محبت و مودت کے لیے اللہ تعالی
سے خصوصی دعائیں بھی کریں تاکہ وہ انہیں ہمیشہ حرام سے اجتناب کرنے کی توفیق عطا
فرمائے۔
3- ہمبستری کی مسنون دعا
پڑھنا:
ہمبستری کے عمل سے قبل: تعوذ و تسمیہ اور تین بار سورہ اخلاص پڑھیں۔
پھر یہ دعا پڑھیں:
بسم اللهِ اللَّهُمَّ جَنبنا الشَّيْطَانَ
وَجَنبِ الشَّيْطَانَ مَارَزَ قتنا۔(صحیح البخاری)
ترجمہ:
اللہ کے نام سے شروع اے اللہ!
تو ہمیں شیطان سے بچا اور جس چیز کا تو نے ہمیں رزق عطا کیا ہے اس سے شیطان کو دور
رکھ ۔
اس طرح نیک ، صالح اور
فرمانبردار اولاد پیدا ہوگی ۔ ان شاء اللہ
4- شوہر اور بیوی کا اپنے اوپر کپڑا اوڑھنا:
دوران جماع زوجین کو عریانی
حالت اختیار نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ اس کیفیت کے جماع سے بے حیا اور نا فرمان
اولاد پیدا ہوگی۔ اس موقع پر عورت کے تمام جسم کو ایک لمبی چادر کے ساتھ ڈھانپ دیا
جائے اور شوہر اسے باوقار رہنے کی تلقین کرے۔
5- میلان طبع کے لیے محبت
بھری گفتگو کرنا:
ہمبستری کے وقت شوہر اپنی بیوی
پر جانوروں کی طرح نہ ٹوٹ پڑے بلکہ بوس و کنار اور محبت و مودت پر مشتمل گفتگو
کرے۔ پھر رفتہ رفتہ اس ہمبستری کی طرف میلان پیدا کرنے پر مبنی باتیں کی جائیں۔
6- فضول گفتگو سے احتراز کرنا:
جس طرح واش روم میں فضول گفتگو
مکروہ ہے اسی طرح جماع کے دوران بھی فضول گفتگو سے احتراز کیا جائے ۔ اس موقع پر
زیادہ گفتگو کرنے کی نحوست سے اولاد گونگی اور لکنت والی پیدا ہونے کا اندیشہ ہوتا
ہے۔
7- قبلہ کی طرف منہ اور پشت نہ
کرنا:
دوران ہمبستری قبلہ کی طرف منہ
نہ کیا جائے کیونکہ ایسا کرنا آداب قبلہ مبارکہ کے خلاف ہے۔ اسی طرح قبلہ کی طرف
اس موقع پر پشت بھی نہ کی جائے۔
8- شوہر اور بیوی کا خوشبو
استعمال کرنا
ہمبستری کے موقع پر شوہر اور بیوی کا خوشبو استعمال کرنا ادب و احترام کے طور پر مناسب ہے، لہذا دونوں اپنے دل و دماغ کو خوشبو سے معطر رکھیں۔
9- کمرہ میں موجود دینی کتب کا
احترام:
بر موقع مجامعت و صحبت اگر
کمرہ میں قرآن کریم کتب تفاسیر، کتب احادیث، کتب سیرت طیبہ، کتب فقہ اور مذہبی کتب
وغیرہ موجود ہوں تو ان پر کپڑا ڈال دیا جائے تا کہ بے ادبی کی صورت پیدا نہ ہو۔
10- اپنی اور زوجہ کی پرسنل
گفتگو لوگوں کے سامنے بیان نہ کرنا:
مباشرت و مجامعت کی کیفیت
لوگوں سے بیان کرنا برائی و بے غیرتی کے زمرے میں آتا ہے۔ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا :
اللہ تعالی کے ہاں بدترین وہ شخص ہے جو اپنی بیوی کے پاس جائے پھر اس کے پردہ کی
باتیں لوگوں کو بتاتا پھرے۔ (اصحیح مسلم)
11- ایام حیض میں صحبت سے مکمل
پرہیز کرنا:
ایام حیض میں قرابت و صحبت سے
مکمل پرہیز کیا جائے کیونکہ ان دنوں میں جماع کی صورت میں ایسے امراض پیدا ہو جاتے
ہیں جن کے بارے میں انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔
چنانچہ ارشاد ربانی ہے:
"فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ
فِی الْمَحِیْضِۙ-وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى یَطْهُرْنَۚ-فَاِذَا
تَطَهَّرْنَ فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُؕ-اِنَّ
اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ" (البقرہ:222)
ترجمہ:
" تم حیض کے دنوں میں عورتوں سے الگ رہو،
ان کے پاس نہ جاؤ یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں۔ جب وہ خوب صاف ستھری ہو جا ئیں تو
ان کے پاس اس طریقہ سے آو جیسا کہ اللہ تعلی نے حکم دیا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ
توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور صفائی ستھرائی کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے"
۔ (البقرہ)
اختتامیہ:
یہ چند ایک آداب ہیں ذکر کیے گئے
ہیں۔ یہ آداب اور باتیں تمام شادی شدہ افراد کے لیے ضروری ہیں کہ وہ اپنے ان نزاکت
کے لمحات میں ان پر عمل کر کے ان لمحات کو مزید خوشگوار بنا سکتے ہیں۔
نوٹ:
یہ مضمون اسلامی اخلاقیاتی تعلیمات اور عمومی دینی آداب کی روشنی میں تحریر کیا گیا ہے۔ دیگر فقہی جزئیات میں مختلف آراء ہو سکتی ہیں، اس لیے مزید رہنمائی کے لیے مستند علماء سے رجوع بہتر ہے۔
0 Comments